8 اگست 2011 - 19:30

پاکستان جہاں عالمی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ و مغربی ممالک کا بھر پور اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر ساتھ دے رہا ہے اور اپنے آنگن کو دہشت گردوں اور اُن کی پھیلائی ہوئی خونی آلودگی صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں کئی ایک پاکستانی رجعت پسند نام نہاد اسلامی عناصر پاکستان کی ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور اقوام عالم میں اُسے رسوا کرنے کے درپے ہیں ۔ یہ نام نہاد علماء اور مدرسوں کے ملا یہ تک نہیں جانتے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اور میڈیا میں تصویر شائع کرانے کے لیے دیئے جانے والے اُن کی بیانات پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں ۔

ابنا: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’’ لال مسجد ‘‘ کے امام مولانا عبد العزیر اسی طرح کے ملاؤں میں سے ایک ہیں جو فی الوقت امریکہ و یورپ کو دھمکیاں دینے اور پاکستانی معاشرے پر اپنا ’’ دین ‘‘ نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائعے بروئے کار لانے کا اعلان کر رہے ہیں ۔ لیکن کیسے؟ڈنمارک کے ایک بڑے معتبر اور کثیر الاشاعت اخبار ’’ پولیٹیکن ‘‘ کے ایک صحافی نے اسلام آباد میں مولانا عبد العزیز سے اس بارے میں ایک انٹرویو کیا ہے جسے روزنامہ پولیٹیکن نے چھ اگست کی اپنی اشاعت میں صفحہ اوّل پر نمایاں سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے ، ہم اسے قارئین کی دلچسپی اور توجہ کے لیے یہاں پیش کررہے ہیں تاکہ وہ خود اندازہ کر لیں کہ اسلام کے یہ نام نہاد سپاہی کیا ارادے رکھتے ہیں اور پاکستان و پاکستانیوں کو بدنام کرنے اور اقوام عالم میں نیچا دکھانے کے لیے کس طرح کے خطرناک منصوبے رکھتے ہیں ۔ڈینش روزنامہ پولیٹیکن نے ’’ پاکستان اسلام پسندوں کی بغاوت کے لیے دھمکی ‘‘ کے عنوان سےاسلام آباد کی ’’ لال مسجد‘‘ کے مولانا عبد العزیز کا جو انٹرویو شائع کیا ہے اس کے ابتدائیہ میں مولانا مذکور کا تعارف کراتے ہوئے اُن کی ایک بڑی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’ مولانا عبد العزیز سنہ دو ہزار سات کی اُس مذہبی بغاوت کی منصوبہ بندی کے محرک ہیں جس کے نتیجے میں ایک سو چون افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ اخبار کے مطابق مولانا عبدالعزیر کا کہنا ہے کہ ’’ میں اب پھر دوبارہ پاکستان کے سیکولر سماج کے خلاف نئی دینی جنگ کے لیے تیار ہوں‘‘۔روزنامہ پولیٹیکن نے اسلام آباد میں لال مسجد کے امام و خطیب عبدالعزیز کے ساتھ اپنے نمائندے کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ پاکستان میں لال مسجد کے امام نے ملکی انتظامیہ کے خلاف جو نئی دھمکی دی ہے وہ ماہرین کے نزدیک، عالمی دہشت گردی کے خلاف، ڈنمارک سمیت دیگر مغربی اتحادیوں کے وفادار اتحادی پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔‘‘پولیٹیکن کے مطابق، عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی اتحادیوں کا سب سے بڑا ہمکار پاکستان ، ایک نئی مذہبی بغاوت کے دھانے پر ہے جس کے اثرات دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ پر بھی پڑ سکتے ہیں ۔ اخبار کے مطابق یہ دھمکی لال مسجد کے امام مولانا عبد العزیز کی طرف سے دی گئی ہے اور اس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے سیکولر سماج کے خلاف ایک نئی’’ مذہبی جنگ ‘‘ شروع کرنے والے ہیں ۔مولانا عبد العزیز سے منسوب کیے گئے بیان میں، انہوں نے کہا ہے کہ ’’ پاکستان رشوت کا گڑھ ہے اور یہاں اخلاقیات کا سخت فقدان ہے، لہٰذا ہمیں دوبارہ اپنی ذمہ داری کو اٹھانا ہوگا بالکل اسی طرح جیسے ہم نے پہلے کیا تھا‘‘۔ غالباًً مولانا کا اشارہ اُس مسلح تحریک کی جانب تھا جو لال مسجد کی لٹھ بردار طالبات سے شروع ہو کر مولانا کے ایک بھائی سمیت ایک سو چون افراد کی اموات اور خود مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری پر پہچ کر ختم ہوئی تھی ۔اخبار کے مطابق ایک سخت گیر اسلامی عالم عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ اب جو طریق وہ اختیار کرنے والے ہیں ’’ اور جس پر وہ عمل پیرا ہیں ایک انتہائی اہم ’’ عمل ‘‘ ہے اور اس کے لیے ہم ایسے ذرائعے استعمال کرنے والے ہیں جو اس کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہیں ۔مولانا عبدالعزیز نے روزنامہ پولیٹیکن کے صحافی کو بتایا کہ وہ اپنے مدرسےکو وسعت دینے اور اسے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فی الوقت پانچ ہزار کے قریب طلبہ ان کے ہاں زیر تعلیم ہیں ۔ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کو دیئے گئے لال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز کے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے، واشنگٹن میں عالمی سٹریجٹک سٹڈیز کے مرکز سے وابستہ انتھونی ایچ کورڈیسمان نے کہا ہے کہ لال مسجد کے امام کا پیغام انتہائی تشویشناک اور دل کی گہرائی سے فکر مند کر دینے والا پیغام ہے ۔ انتھونی ایچ کورڈیسمان کا کہنا ہے کہ ’’ اگر مولانا عبد العزیز واقعی میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مصروف ہیں تو یہ ایک امتہائی پریشان کن امر ہے کیونکہ وہ پہلے بھی ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ’’ پر تشدد منصوبہ بندی اور بغاوت کرانے کے نہ صرف ماہر و اہل ہیں بلکہ ایسا کر بھی چکے ہیں اور مستقبل میں ایسا کرنے کے قابل بھی ہیں ۔ اور اُن کا’’ بغاوت کے لیے ‘‘ یہ پیغام واقعی میں اتنا سنجیدہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی بھی صورت میں نرم نہیں سمجھا جانا چاہیئے ‘‘۔مولانا عبدالعزیز کی جانب سے ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کو دیئے گئے متذکرہ انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوب ایشیائی مرکز کے سربراہ، اور پاکستانی امور کے اعلیٰ ترین ماہر، شجاع نواز نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ اس وقت جب پاکستان انتہا پسندی کے خلاف اپنے گھر کی صفائی کر رہا ہے اس تناظر میں ٹھوس عسکریت پسند ( مولانا عبد العزیز اور ان کے ہمنواؤں) کی جانب سے ’’ گھریلو دینی بغاوت برپا کرنے کی دھمکیاں ‘‘ پاکستان کے اندر اور اس کے ارد گرد بڑا نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح کی دھمکیوں کے سبب، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی ممالک اپنے انتہائی اہم اتحادی ’’ پاکستان ‘‘ سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ۔مولانا عبدالعزیر جو سات سال قید کی سزا اور گھر پر نظر بندی کی سزا بھگت کر اب اسلام آباد کی لال مسجد کے امام کے طور پر دوبارہ مامور ہو چکے ہیں اُن کی جانب سے ملک میں ’’ دینی بغاوت ’’ برپا کرنے کی نئی دھمکی کے تناظر میں ڈینش ماہرین، ڈنمارک کے لیے بھی منفی نتائج کی پشین گوئی کر رہے ہیں ۔روزنامہ پولیٹیکن کے مطابق، نارڈک انسٹی ٹیوٹ برائے معالعہء ایشیا کے محقق اعلیٰ ، سٹی ٹافٹ ماڈسن کا کہنا ہے کہ یہ بات ڈنمارک کے مفاد میں ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان میں مزید جڑیں نہ پھیلا سکے ۔ افغانستان میں استحکام و سیکورٹی کے لیے، ڈنمارک کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اور پاکستان کی شرکت کے بغیر ڈنمارک اور اتحادیوں کے لیے صورت حال بہت ہی خطرناک ہو سکتی ہے ۔ اور پھر اگر دہشت گردوں کو یوں کھلا کھیل کھیلنے کا کوئی موقع مل گیا تو ڈنمارک ہر وقت اُن کی نظروں میں رہے گا ۔ڈینش وزیر خارجہ، کنزرویٹوو پارٹی کی لین ایسپرسن نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ’’ مولانا عبد العزیز کا( دینی بغاوت کے لیے) اعلان ’’ انتہائی سنجیدہ اور سخت تشویشناک ہے‘‘۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ ’’ شدت پسندی کے پھیلاؤ کے لیے پاکستان میں جگہ ہے جو کہ افغانستان میں سیکورٹی و استحکام کے لیے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی یہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے جنگ کے لیے مناسب ہے ۔ڈینش وزیر خارجہ لین ایسپرسن نے روزنامہ پولیٹیکن کو بتایا کہ ’’ ایک غیر مستحکم پاکستان، افغانستان سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے ‘‘۔مولانا عبد العزیز کے بیان کے تناظر میں، پاکستان کے وزیر اعظم، سید یوسف رضا گیلانی نے، روزنامہ پولیٹیکن کی جانب سے استفسار کیے جانے پر اپنے ایک تحریری بیان میں اِس امر کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ’’ عسکریت پسند پاکستان میں جڑیں پکڑنے کا موقع حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔ وزیر اعظم گیلانی نے اپنے تحریری جواب میں روزنامہ پولیٹیکن کو بتایا کہ ’’ پاکستان، دہشگردی کو راہ سے ہٹانے کے لیے ٹھوس قوت اور عزم رکھتا ہے‘‘۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے اسی تحریری جواب میں روزنامہ پولیٹیکن کو مزید کہا کہ ’’ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ مٹھی بھر عسکریت پسند اور شدت پسند، (پاکستانی) قوم کے مستقبل کا فیصلہ کریں اور وہ ایک پر امن اور اعتدال پسند اکژیت پر اپنا ’’ انتہا پسند ایجنڈا تھونپیں ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ان عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ہم ٹھوس قوت و عزم رکھتے ہیں ۔